پٹوار خانے کا نظام انتہائی فرسودہ ،بے انتہا ءکرپشن ،متبادل سسٹم آنا چاہئے ،سپریم کورٹ
Share :



سپریم کورٹ میں شہری علاقوں میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کے اختیارات سے متعلق نظر ثانی درخواست پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ، کے پی کے اور پنجاب نے جواب جمع کروانے کےلئے مہلت مانگ لی جبکہ عدالت نے کہا ہے کہ صوبوں کا جواب آنے کے بعد نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوگی۔ پیر کو سپریم کورٹ میں شہری علاقوں میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کے اختیارات سے متعلق نظر ثانی درخواست پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہاکہ اس نظام کی جگہ کوئی متبادل نظام آنا چاہیے، یہ نظام انتہائی فرسودہ ہے اور اس میں بے انتہاءکرپشن ہے۔ دور ان سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ بلوچستان نے تفصیلی جواب جمع کروانے کےلئے وقت مانگ لیا،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے اور پنجاب نے بھی جواب جمع کروانے کےلئے مہلت مانگ لی۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ بلوچستان میں ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ لاگو نہیں ہوتا ۔انہوںنے کہاکہ یہ مسئلہ صرف لاہور شہر کا تھا تاہم حکم نامہ پورے ملک پر لاگو ہوا۔وکیل درخواست گزارنے کہا بلوچستان کا معاملہ بہت مختلف ہے۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ دیہی علاقوں کی شمولیت سے شہری علاقے وسیع ہوگئے ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ اسلام آباد میں ابھی بھی ایسے علاقے ہیں جو ریکارڈ سے متعلق سی ڈی اے کے ماتحت نہیں۔انہوںنے کہاکہ اصل چیز یہ ہے کہ کوئٹہ میں ریکارڈ کون محفوظ کر رہا ہے۔عدالت نے کہاکہ صوبوں کا جواب آنے کے بعد نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوگی۔ بعد ازاں کیس کی سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کر دی گئی ۔

TOP